ابنا: جرمنی کے دارالحکومت برلن میں برینڈن برگ گیٹ کے دورے کے موقعے پر امریکی صدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ جوہری اسلحے میں ایک تہائی کی کمی کر سکتا ہے لہذا اس سلسلے میں روس کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے۔اوباما نے یورپ میں موجود جوہری وارہیڈز میں کمی کا بھی مطالبہ کیا۔روس کے نائب وزیرِاعظم دمتری روگوزن نے کہا کہ روس امریکہ کی ان یقین دہانیوں کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتا۔امریکہ اور روس نے 2010 میں جوہری اسلحے کی کمی کے مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے مطابق، دونوں ممالک 2018 تک اپنے جوہری ذخیرے کو 1550 وارہیڈز تک محدود کریں گے۔تاہم روس کے نائب وزیر اعظم نے روگوزن نے کہ جو نیٹو میں روس کے سفیر بھی رہ چکے ہیں کہا کہ ایسے حالات میں روس ان یقین دہانیوں کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتا کہ جب امریکہ ساتھ ہی ساتھ دفاعی میزائل نظام قائم کرنے کی کوششوں میں اضافہ کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ اس لیے روس کی اعلی قیادت اس مطالبہ کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتی۔روگوزن نے اوباما کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یا تو انہیں مسئلہ کی حقیقت سے مکمل طور پر واقفیت نہیں ہے، یا وہ واضح جھوٹ بول رہے ہیں اور یا پھر وہ ایکدم پیشہ ور نہیں ہیں۔روگوزن کا کہنا تھا کہ جوہری اسلحوں میں کمی کی بات نا مناسب ہے کیونکہ واشنگٹن نیا دفاعی میزائل نظام بنانے کی کوشش کر رہا ہے خاص طور سے وہ اسے یورپ میں تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔صدر اوباما کی تقریر سے کچھ دیر قبل روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ روس دفاعی مزاحمت کے نظام کا توازن خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور نہ ہی وہ اپنے جوہری اسلحے کے موثر پن میں کمی کرنے کے لیے تیار ہے۔...../169
19 جون 2013 - 19:30
News ID: 431776
روس نے کہا ہے کہ جوہری اسلحے کے ذخیرے کو کم کرنے کے امریکی صدر براک اوباما کے مطالبہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ واشنگٹن روسی میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی طاقت بڑھانے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔